اپنا پوران

تاریخ ۔

تاریخ کے اعتبار سے ھمارا گاوں پوران ایک وسیع اور بہت ہی پورانی تاریخ کا مالک ھے۔

 

بعض روایات کے مطابق اس کی تاریخ 326 قبل مسیع سے جا ٹکراتی ھے۔ لیکن تاریخ کو 326 قبل مسیع سے شروع کرنا ایک مشکل عمل ہی نہیں بلکہ نا ممکن عمل ہے۔ لیکن ایک حوالہ دیتا جاوں کہ 326 - 327 قبل مسیع میں سکندرِ اعظم اور راجہ پورس کے درمیان لڑی جانے والی جنگ اسی سر زمین اور اس سے ملحکہ علاقوں میں لڑی گی تھی اور راجہ پورس نے اپنے چھوٹے بھایی راجھ پوران کو سکندر اعظم کی عظیم فوج سے مقابلہ کرنے کے لیے گاوں پوران کے مقام پر ہاتھیوں کے لشکر کی مدد کے ساتھ فاءض کیا تھا۔ جس کی وجھ سے اس جگہ کو پوران کے نام سے نوازا گیا۔

اس کا حوالہ مختلف تاریخ کے ویب سایٹ سے دیکھا جا سکتا ھے۔

 

اس کے بعد گاوں کو سولویں صدی عیسوی سے ملاتا ہوں اور 1540 عیسوی سے لیکر آج کے مقام پر لاوءں گا۔

 

کہا جاتا ھے کہ عظیم پٹھان بادشاہ شیر شاہ سوری نے جب جھلم کے مقام پر آکر قلعہ روہتاس کی بنیاد رکھی تو اس کی تعمیرمکمل ہونے سے پہلے اس نے گاوں پوران میں آ کر عظیم ولی اللہ پیر ہیبت خان قندہاری کا مزار شریف بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ بزرگوں نے شیر شاہ سوری کے خواب میں دو یا تین مرتبہ آکر مزار شریف بنانے کا حکم دیا تھا۔

اگر قلعہ روہتاس اور مزار شریف (پورانہ) کا موازنہ کروایا جاے تو معلوم ہوگا کہ دونو کا فنِِِ ِتعمیر بلکل ایک جیسا اور ایک ہی پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ قلعہ کی جو سیڑیاں کنویں تک جتی ہیں وہ سو فیصد مزار شریف کی سیڑیوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ دونوں میں ایک جیسی سیڑیاں، ڈھالیں اور ہر قسم کا مواد ایک ہی ھے اور یہی باتیں ہمیں درباریوں سے بھی ملتی ہیں۔

 

اگلا صفہ

Powered by ApnaPuran.com ( Naveed Maqsood Raja)